سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی

چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی نگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھی غم واماندگی سے بے نیاز ہوش بیٹھا ہوں چلی آتی ہے آواز درائے کارواں پھر بھی حجاب اندر حجاب امواج طوفان تجلی ہیں فروغ شمع سے پروانہ ہے آتش بجاں پھر بھی اشاروں سے نگاہوں سے بہت کچھ منع کرتا ہوں قفس ہی پر جھکی پڑتی ہے شاخ آشیاں پھر بھی بہت دلچسپ ہے سیمابؔ شام وادئ غربت وطن کی صبح میں کچھ اور تھیں رنگینیاں پھر بھی

— سیماب اکبرآبادی