سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا
اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا عرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملا جب دور تک نہ کوئی فقیر آشنا ملا تیرا نیاز مند ترے در سے جا ملا منزل ملی مراد ملی مدعا ملا سب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا خود بین و خود شناس ملا خود نما ملا انساں کے بھیس میں مجھے اکثر خدا ملا سرگشتۂ جمال کی حیرانیاں نہ پوچھ ہر ذرے کے حجاب میں اک آئنہ ملا پایا تجھے حدود تعین سے ماورا منزل سے کچھ نکل کے ترا راستہ ملا کیوں یہ خدا کے ڈھونڈنے والے ہیں نامراد گزرا میں جب حدود خودی سے خدا ملا یہ ایک ہی تو نعمت انساں نواز تھی دل مجھ کو مل گیا تو خدائی کو کیا ملا یا زخم دل کو چھیل کے سینے سے پھینک دے یا اعتراف کر کہ نشان وفا ملا سیمابؔ کو شگفتہ نہ دیکھا تمام عمر کم بخت جب ملا ہمیں غم آشنا ملا
شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا
شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا پردے ہی پردے میں اپنا راز افشا کر دیا مانگ کر ہم لائے تھے اللہ سے اک درد عشق وہ بھی اب تقدیر نے اوروں کا حصہ کر دیا دو ہی انگارے تھے ہاتھوں میں خدائے عشق کے ایک کو دل ایک کو میرا کلیجا کر دیا جب تجلی ان کی برق ارزانیوں پر آ گئی آبلے سے دل کے پیدا طور سینا کر دیا اپنی اس وارفتگئ شوق کا ممنون ہوں بارہا مجھ کو بھری محفل میں تنہا کر دیا واقعات عشق کا تھا لمحہ لمحہ اک صدی ہر نفس میں میں نے اک ارمان پورا کر دیا مرحمت فرما کے اے سیمابؔ غم کی لذتیں زیست کی تلخی کو فطرت نے گوارا کر دیا