سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
نایاب
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
راجا اکرام قمر
زارا
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
ندیم بخاری
وقاراحسن
یادرفتگان
شہزاد کا پیش کردہ کلام
یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی
یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی سنا تھا قصہ خواں کوئی نیا قصہ سنائے گا ہمارے منہ پہ ظالم نے ہماری داستاں رکھ دی خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی اٹھایا میں نے شام ہجر لطف گفتگو کیا کیا تصور نے تری تصویر کے منہ میں زباں رکھ دی