سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی سنا تھا قصہ خواں کوئی نیا قصہ سنائے گا ہمارے منہ پہ ظالم نے ہماری داستاں رکھ دی خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی اٹھایا میں نے شام ہجر لطف گفتگو کیا کیا تصور نے تری تصویر کے منہ میں زباں رکھ دی

— سیماب اکبرآبادی