سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری نہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوں گزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری کسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شاید ہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری نہ ہو جو زندگی انجام وہ وجدان ناقص ہے حضور شمع بعد وجد پروانے پہ کیا گزری بتائیں برہمن اور شیخ ان کی خانہ جنگی میں خدا خانے پہ کیا بیتی صنم خانے پہ کیا گزری تو اپنے ہی مآل سوز غم پر غور کر پہلے تجھے اس سے نہیں کچھ بحث پروانے پہ کیا گزری کسی حکمت سے کر دے کوئی گویا مرنے والوں کو یہ راز اب تک ہے سربستہ کہ مر جانے پہ کیا گزری تری ہر سو تجلی اور میری ہر طرف نظریں تجھے تو یاد ہوگا آئینہ خانے پہ کیا گزری زباں منہ میں ہے عرض حال کر تو نے تو دیکھا ہے کہ خوئے ضبط و خاموشی سے پروانے پہ کیا گزری وہ کہتا تھا خدا جانے بہار آئے تو کیا گزرے خدا جانے بہار آئی تو دیوانے پہ کیا گزری یہ ہے سیمابؔ اک نا گفتہ بہ افسانہ کیا کہیے وطن سے کنج غربت میں چلے آنے پہ کیا گزری

— سیماب اکبرآبادی

میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں

میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں تو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیں اور یہ کیا ہے ضبط جو سوز پنہانی نہیں آگ روشن دل میں ہے چہرے پہ تابانی نہیں پھول کے پتے بکھر کر اک فسانہ کہہ گئے جس کی ہو ترتیب ممکن وہ پریشانی نہیں مجھ پر اک الزام ہے قید قفس وہ بھی غلط جس کی نیت میں ہو آزادی وہ زندانی نہیں جوش گریہ اس پر آہوں کی یہ سیلابی ہوا کون سی ہے موج اشک ایسی جو طوفانی نہیں راز یہ مجھ پر شکست غنچہ و گل سے کھلا حسن بھی تو بے نیاز چاک دامانی نہیں خواہشوں کے ساتھ اپنے نفس کو بھی کر فنا زندگی میں اس سے بہتر کوئی قربانی نہیں اتفاقات محبت نے یہ ثابت کر دیا وہ بھی پیشانی میں ہے شاید جو پیش آنی نہیں دولت کونین سے بھی ہے گراں تر اک سکوں دل ہو مستغنی تو پروائے جہاں بانی نہیں جاودانی ہوں میں اے دنیا پرستش کر مری یہ مسلم ہے کہ تو فانی ہے میں فانی نہیں حوصلوں کے ساتھ طے کر راہ دشوار حیات حل تو ہوں گی مشکلیں لیکن بہ آسانی نہیں دیکھ اے ساقی قناعت کی طرب افشانیاں آب کوثر ہے کٹورے میں مرے پانی نہیں ہے مری نظروں میں انجام بہار گلستاں اب مرے سر میں ہوائے گل بدامانی نہیں بہہ چکا ہے خون پانی کی طرح انسان کا معتدل پھر بھی مزاج عالم فانی نہیں کر نہ اے کنج لحد زحمت مرے آرام کی میں مجاہد ہوں مجھے خوئے تن آسانی نہیں کر رہا ہوں نظم اے سیمابؔ قرآن مجید اور یہ کیا ہے اگر تائید یزدانی نہیں

— سیماب اکبرآبادی