سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری نہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوں گزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری کسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شاید ہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری نہ ہو جو زندگی انجام وہ وجدان ناقص ہے حضور شمع بعد وجد پروانے پہ کیا گزری بتائیں برہمن اور شیخ ان کی خانہ جنگی میں خدا خانے پہ کیا بیتی صنم خانے پہ کیا گزری تو اپنے ہی مآل سوز غم پر غور کر پہلے تجھے اس سے نہیں کچھ بحث پروانے پہ کیا گزری کسی حکمت سے کر دے کوئی گویا مرنے والوں کو یہ راز اب تک ہے سربستہ کہ مر جانے پہ کیا گزری تری ہر سو تجلی اور میری ہر طرف نظریں تجھے تو یاد ہوگا آئینہ خانے پہ کیا گزری زباں منہ میں ہے عرض حال کر تو نے تو دیکھا ہے کہ خوئے ضبط و خاموشی سے پروانے پہ کیا گزری وہ کہتا تھا خدا جانے بہار آئے تو کیا گزرے خدا جانے بہار آئی تو دیوانے پہ کیا گزری یہ ہے سیمابؔ اک نا گفتہ بہ افسانہ کیا کہیے وطن سے کنج غربت میں چلے آنے پہ کیا گزری
میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں
میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں تو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیں اور یہ کیا ہے ضبط جو سوز پنہانی نہیں آگ روشن دل میں ہے چہرے پہ تابانی نہیں پھول کے پتے بکھر کر اک فسانہ کہہ گئے جس کی ہو ترتیب ممکن وہ پریشانی نہیں مجھ پر اک الزام ہے قید قفس وہ بھی غلط جس کی نیت میں ہو آزادی وہ زندانی نہیں جوش گریہ اس پر آہوں کی یہ سیلابی ہوا کون سی ہے موج اشک ایسی جو طوفانی نہیں راز یہ مجھ پر شکست غنچہ و گل سے کھلا حسن بھی تو بے نیاز چاک دامانی نہیں خواہشوں کے ساتھ اپنے نفس کو بھی کر فنا زندگی میں اس سے بہتر کوئی قربانی نہیں اتفاقات محبت نے یہ ثابت کر دیا وہ بھی پیشانی میں ہے شاید جو پیش آنی نہیں دولت کونین سے بھی ہے گراں تر اک سکوں دل ہو مستغنی تو پروائے جہاں بانی نہیں جاودانی ہوں میں اے دنیا پرستش کر مری یہ مسلم ہے کہ تو فانی ہے میں فانی نہیں حوصلوں کے ساتھ طے کر راہ دشوار حیات حل تو ہوں گی مشکلیں لیکن بہ آسانی نہیں دیکھ اے ساقی قناعت کی طرب افشانیاں آب کوثر ہے کٹورے میں مرے پانی نہیں ہے مری نظروں میں انجام بہار گلستاں اب مرے سر میں ہوائے گل بدامانی نہیں بہہ چکا ہے خون پانی کی طرح انسان کا معتدل پھر بھی مزاج عالم فانی نہیں کر نہ اے کنج لحد زحمت مرے آرام کی میں مجاہد ہوں مجھے خوئے تن آسانی نہیں کر رہا ہوں نظم اے سیمابؔ قرآن مجید اور یہ کیا ہے اگر تائید یزدانی نہیں