سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

زندان کائنات میں محصور کر دیا

زندان کائنات میں محصور کر دیا محفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیا آتے ہو دینے دعوت دار و رسن ہمیں جب ہم نے ترک شیوۂ منصور کر دیا فطرت یہی ازل سے ہے برق جمال کی اس نے جسے تباہ کیا طور کر دیا تم نے ہمارے ظرف نظر پر نہ کی نگاہ سارے جہاں کو حسن سے معمور کر دیا سیمابؔ کوئی مرتبہ منصور کا نہ تھا لفظ خودی کی شرح نہ مشہور کر دیا

— سیماب اکبرآبادی

ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم

ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم کیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہم خود ہی ساز بے خودی کو چھیڑ دیتے ہیں کبھی خود ہی سنتے ہیں حدیث ساغر و پیمانہ ہم دفعتاً ساز دو عالم بے صدا ہو جائے گا کہتے کہتے رک گئے جس دن ترا افسانہ ہم شمع ایوان حرم ہو یا چراغ طاق دیر ہم کو دونوں سے تعلق ہے کہ ہیں پروانہ ہم دل جلا پھر خود جلے پھر ساری دنیا جل اٹھی سوز لائے تھے بمقدار پر پروانہ ہم جب ہمیں دیوانہ بننا ہے تو کیسی مصلحت مصلحت کو بھی بنا لیں گے ترا دیوانہ ہم بسکہ ہے سیمابؔ بے مہری یگانوں کا شعار ہیں رہین التفات خاطر بیگانہ ہم

— سیماب اکبرآبادی