سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
زندان کائنات میں محصور کر دیا
زندان کائنات میں محصور کر دیا محفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیا آتے ہو دینے دعوت دار و رسن ہمیں جب ہم نے ترک شیوۂ منصور کر دیا فطرت یہی ازل سے ہے برق جمال کی اس نے جسے تباہ کیا طور کر دیا تم نے ہمارے ظرف نظر پر نہ کی نگاہ سارے جہاں کو حسن سے معمور کر دیا سیمابؔ کوئی مرتبہ منصور کا نہ تھا لفظ خودی کی شرح نہ مشہور کر دیا
ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم
ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم کیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہم خود ہی ساز بے خودی کو چھیڑ دیتے ہیں کبھی خود ہی سنتے ہیں حدیث ساغر و پیمانہ ہم دفعتاً ساز دو عالم بے صدا ہو جائے گا کہتے کہتے رک گئے جس دن ترا افسانہ ہم شمع ایوان حرم ہو یا چراغ طاق دیر ہم کو دونوں سے تعلق ہے کہ ہیں پروانہ ہم دل جلا پھر خود جلے پھر ساری دنیا جل اٹھی سوز لائے تھے بمقدار پر پروانہ ہم جب ہمیں دیوانہ بننا ہے تو کیسی مصلحت مصلحت کو بھی بنا لیں گے ترا دیوانہ ہم بسکہ ہے سیمابؔ بے مہری یگانوں کا شعار ہیں رہین التفات خاطر بیگانہ ہم