سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں
جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں غالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیں درد سر ان کے لئے کیوں ہے مرا عجز و نیاز میرے سجدوں سے وہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں ان کی محفل سے تصور کا تعلق ہے ہمیں آنکھ کر لیتے ہیں جب بند وہیں ہوتے ہیں تیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوست اب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں ہوتے ہیں اعتکاف ان دنوں ہے فرض سنا ہے سیمابؔ رمضاں آ گئے مے خانہ نشیں ہوتے ہیں
وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے
وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے ورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لئے اے خزاں تو شوق کے سارا چمن برباد کر چند پھانسیں چھوڑ جا میری رگ جاں کے لئے دور پہونچیں شہرتیں رفتار سحر آثار کی کھل گئے رستے ترے حسن خراماں کے لئے پھول گلشن کے نہیں تو خاک صحرا ہی سہی کچھ نہ کچھ تو چاہئے تسکین داماں کے لئے اس لئے دیتا ہوں دل تم کو کہ لو اور بھول جاؤ میں نے اک تصویر دی ہے طاق نسیاں کے لئے دھجیاں اڑنے کو اے سیمابؔ وسعت چاہئے ہے کوئی میدان آشوب گریباں کے لئے