سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
برسات
برکھا آئی بادل آئے اوڑھے کالے کمبل آئے ٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیں کالی کالی چھائیں گھٹائیں گرمی نے ڈیرا اٹھوایا دھوپ پہ سایہ غالب آیا پھیلا دن کے ساتھ دھندلکا بھورا بھورا ہلکا ہلکا بدلی آئی شور مچاتی بھیگے بھیگے نغمے گاتی بادل سے امرت جل برسا امرت جل کیا کومل برسا ہو گئی زندہ مردہ کھیتی دھل گئے ذرے چمکی ریتی دریا اور سمندر ابھرے تازہ موجیں لے کر ابھرے تازگیاں ہیں جنگل جنگل ہر جنگل میں ہے اب منگل یہ رت یا برسات کا موسم ہے گویا جذبات کا موسم
شام کی دعا
شام ہوئی اور سورج ڈوبا رات نے اپنا خیمہ ڈالا دھوپ کہاں اب ہے اندھیارا سماں ہے ٹھنڈا پیارا پیارا دن بھر خوب پڑھے اور کھیلے دیکھے اس دنیا کے میلے یاد کرو سب دن کی باتیں کیا کیا کام کیے تھے دن میں کس کو مارا کس کو لوٹا لڑنے میں کس کا سر پھوٹا کام کیا ہے نیک بھی کوئی تم نے دعا لی ایک بھی کوئی نیک اگر کچھ کام کیا ہے تو سمجھو یہ دن اچھا ہے مانگو اپنے رب سے دعائیں یا رب سر سے ٹال بلائیں شام سویرے کا تو مالک اور اندھیرے کا تو مالک صبح بھی تجھ سے شام بھی تجھ سے ہے ان کا انجام بھی تجھ سے جیسے دن راحت سے گزرا گزرے یوں ہی رات بھی مولا نام ترا میں لے کر جاگوں کھاؤں پیوں اور دوڑوں بھاگوں کھیلوں کودوں اور پڑھوں میں شاد رہوں آباد رہوں میں