سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

برسات

برکھا آئی بادل آئے اوڑھے کالے کمبل آئے ٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیں کالی کالی چھائیں گھٹائیں گرمی نے ڈیرا اٹھوایا دھوپ پہ سایہ غالب آیا پھیلا دن کے ساتھ دھندلکا بھورا بھورا ہلکا ہلکا بدلی آئی شور مچاتی بھیگے بھیگے نغمے گاتی بادل سے امرت جل برسا امرت جل کیا کومل برسا ہو گئی زندہ مردہ کھیتی دھل گئے ذرے چمکی ریتی دریا اور سمندر ابھرے تازہ موجیں لے کر ابھرے تازگیاں ہیں جنگل جنگل ہر جنگل میں ہے اب منگل یہ رت یا برسات کا موسم ہے گویا جذبات کا موسم

— سیماب اکبر آبادی

شام کی دعا

شام ہوئی اور سورج ڈوبا رات نے اپنا خیمہ ڈالا دھوپ کہاں اب ہے اندھیارا سماں ہے ٹھنڈا پیارا پیارا دن بھر خوب پڑھے اور کھیلے دیکھے اس دنیا کے میلے یاد کرو سب دن کی باتیں کیا کیا کام کیے تھے دن میں کس کو مارا کس کو لوٹا لڑنے میں کس کا سر پھوٹا کام کیا ہے نیک بھی کوئی تم نے دعا لی ایک بھی کوئی نیک اگر کچھ کام کیا ہے تو سمجھو یہ دن اچھا ہے مانگو اپنے رب سے دعائیں یا رب سر سے ٹال بلائیں شام سویرے کا تو مالک اور اندھیرے کا تو مالک صبح بھی تجھ سے شام بھی تجھ سے ہے ان کا انجام بھی تجھ سے جیسے دن راحت سے گزرا گزرے یوں ہی رات بھی مولا نام ترا میں لے کر جاگوں کھاؤں پیوں اور دوڑوں بھاگوں کھیلوں کودوں اور پڑھوں میں شاد رہوں آباد رہوں میں

— سیماب اکبر آبادی