شیخ ابراہیم ذوق

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق

15 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے

چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے موت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہے یہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے کشتۂ زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی وش بید مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے خاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سوا ہو صفا اور دل اہل صفا یاد رہے ہو یہ لبیک حرم یا یہ اذان مسجد مے کشو قلقل مینا کی صدا یاد رہے یاد اس وعدہ فراموش نے غیروں سے بدی یاد کچھ کم تو نہ تھی اور سوا یاد رہے خط بھی لکھتے ہیں تو لیتے ہیں خطائی کاغذ دیکھیے کب تک انہیں میری خطا یاد رہے دو ورق میں کف حسرت کے دو عالم کا ہے علم سبق عشق اگر تجھ کو دلا یاد رہے قتل عاشق پہ کمر باندھی ہے اے دل اس نے پر خدا ہے کہ اسے نام مرا یاد رہے طائر قبلہ نما بن کے کہا دل نے مجھے کہ تڑپ کر یوں ہی مر جائے گا جا یاد رہے جب یہ دیں دار ہیں دنیا کی نمازیں پڑھتے کاش اس وقت انہیں نام خدا یاد رہے ہم پہ سو بار جفا ہو تو رکھو ایک نہ یاد بھول کر بھی کبھی ہووے تو وفا یاد رہے محو اتنا بھی نہ ہو عشق بتاں میں اے ذوقؔ چاہیئے بندے کو ہر وقت خدا یاد رہے

— شیخ ابراہیم ذوق