شیخ ابراہیم ذوق

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق

15 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے برق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ذکر شمع حسن لانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ان کو درپردہ جلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جھوٹ موٹ افیون کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ان کو کف لا کر ڈرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے سن کے آمد ان کی از خود رفتہ ہو جاتے ہیں ہم پیشوا لینے کو جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ہم نے اول ہی کہا تھا تو کرے گا ہم کو قتل تیوروں کا تاڑ جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے لطف اٹھانا ہے اگر منظور اس کے ناز کا پہلے اس کا ناز اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جو سکھایا اپنی قسمت نے وگرنہ اس کو غیر کیا سکھائے گا سکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے دیکھ کر قاتل کو بھر لائے خراش دل میں خوں سچ تو یہ ہے مسکرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے تیر و پیکاں دل میں جتنے تھے دیے ہم نے نکال اپنے ہاتھوں گھر لٹانا کوئی ہم سے سیکھ جائے کہہ دو قاصد سے کہ جائے کچھ بہانے سے وہاں گر نہیں آتا بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے خط میں لکھوا کر انہیں بھیجا تو مطلع درد کا درد دل اپنا جتانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جب کہا مرتا ہوں وہ بولے مرا سر کاٹ کر جھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے واں ہلے ابرو یہاں پھیری گلے پر ہم نے تیغ بات کا ایما سے پانا کوئی ہم سے سیکھ جائے تیغ تو اوچھی پڑی تھی گر پڑے ہم آپ سے دل کو قاتل کے بڑھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے زخم کو سیتے ہیں سب پر سوزن الماس سے چاک سینے کے سلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے پوچھے ملا سے جسے کرنا ہو سجدہ سہو کا سیکھے گر اپنا بھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے کیا ہوا اے ذوقؔ ہیں جوں مردمک ہم رو سیاہ لیکن آنکھوں میں سمانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

— شیخ ابراہیم ذوق

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے اور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرے عشق کے داغ کو دل مہر نبوت سمجھا ڈر ہے کافر کہیں دعوائے نبوت نہ کرے ہے جراحت کا مری سودۂ الماس علاج فائدہ اس کو کبھی سنگ جراحت نہ کرے ہر قدم پر مرے اشکوں سے رواں ہے دریا کیا کرے جادہ اگر ترک رفاقت نہ کرے آج تک خوں سے مرے تر ہے زبان خنجر کیا کرے جب کہ طلب کوئی شہادت نہ کرے ہے یہ انساں بڑے استاد کا شاگرد رشید کر سکے کون اگر یہ بھی خلافت نہ کرے بن جلے شمع کے پروانہ نہیں جل سکتا کیا بڑھے عشق اگر حسن ہی سبقت نہ کرے پھر چلا مقتل عشاق کی جانب قاتل سر پہ برپا کہیں کشتوں کے قیامت نہ کرے

— شیخ ابراہیم ذوق