سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا
اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا اگر پایا - تو کھوج اپنا نہ پایا جس انساں کو سگِ دنیا نہ پایا فرشتہ اس کا ہم پایا نہ پایا مقدر پہ ہی گر سود و زیاں ہے تو ہم نے یاں نہ کچھ کھویا - نہ پایا سراغِ عمرِ رفتہ ہو - تو کیونکر؟ کہیں جس کا نشاں نہ پایا رہِ گم گشتگی میں ہم نے اپنا غبارِ راہ بھی عنقا نہ پایا رہا ٹیڑھا مثالِ نیشِ کژدم کبھی کج فہم کو سیدھا نہ پایا احاطے سے فلک کے - ہم تو کب کے نکل جاتے - پر رستا نہ پایا جہاں دیکھا - کسی کے ساتھ دیکھا کبھی ہم نے تجھے تنہا نہ پایا کہے کیا ہائے زخمِ دل ہمارا ! دہن پایا - لبِ گویا نہ پایا کبھی تو اور کبھی تیرا رہا غم غرض - خالی دلِ شیدا نہ پایا نظیر اس کا کہاں عالم میں! اے ذوق کہیں ایسا نہ پائے گا - نہ پایا
ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے
ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے اجل کو جو طبیب اور مرگ کو اپنی دوا سمجھے ستم کو ہم کرم سمجھے ، جفا کو ہم وفا سمجھے اور اُس پر بھی نہ سمجھے وہ تو اُس بُت سے خدا سمجھے تجھے اے سنگدل آرامِ جانِ مبتلا سمجھے پڑیں پتھر سمجھ پر اپنی ہم سمجھے تو کیا سمجھے مجھے آتا ہے رشک اُس رندِ مے آشام پر ساقی نہ جو "دع ماکدر" جانے نہ جو "خذ ما صفا" سمجھے نہ آیا خاک بھی رستہ سمجھ میں عمرِ رفتہ کا مگر سمجھے تو داغِ معصیت کو نقشِ پا سمجھے سمجھ میں ہی نہیں آتی ہے کوئی بات ذوقؔ اُس کی کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے؟