سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا
نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا کہ نیچے آسماں کے اور پیدا آسماں ہوتا کہے ہے مرغ دل اے کاش میں زاغ کماں ہوتا کہ تا شاخ کماں پر اس کی میرا آشیاں ہوتا ابھی کیا سرد قاتل یہ شہید تفتہ جاں ہوتا کوئی دم شمع مردہ میں بھی ہے باقی دھواں ہوتا نہ ہوتی دل میں کاوش گر کسی کی نوک مژگاں کی تو کیوں حق میں مرے ہر موئے تن مثل سناں ہوتا عزا داری میں ہے کس کی یہ چرخ ماتمی جامہ کہ حبیب چاک کی صورت ہے خط کہکشاں ہوتا بگولا گر نہ ہوتا وادئ وحشت میں اے مجنوں تو گنبد ہم سے سرگشتوں کی تربت پر کہاں ہوتا جو روتا کھول کر دل تنگ نائے دہر میں عاشق تو جوئے کہکشاں میں بھی فلک پر خوں رواں ہوتا نہ رکھتا گر نہ رکھتا منہ پہ یہ دانا مریض غم مگر تیرا میسر بوسۂ خال دہاں ہوتا ترے خونیں جگر کی خاک پر ہوتا اگر سبزہ تو مژگاں کی طرح اس سے بھی پیہم خوں رواں ہوتا رکاوٹ دل کی اس کافر کے وقت ذبح ظاہر ہے کہ خنجر میری گردن پر ہے رک رک کر رواں ہوتا نہ کرتا ضبط میں گریہ تو اے ذوقؔ اک گھڑی بھر میں کٹورے کی طرح گھڑیال کے غرق آسماں ہوتا
باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے
باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے دل پر خوں کا وہاں ہاتھ پتا لگتا ہے کیا تڑپنا دل بسمل کا بھلا لگتا ہے کہ جب اچھلے ہے ترے سینے سے جا لگتا ہے دل کہاں سیر تماشے پہ مرا لگتا ہے جی کے لگ جانے سے جینا بھی برا لگتا ہے جو حوادث سے زمانے کے گرا پھر نہ اٹھا نخل آندھی کا کہیں اکھڑا ہوا لگتا ہے دل لگانے کا مزا ہے کہ گزک میں اس کے سب کبابوں سے نمک دل پہ سوا لگتا ہے نہ شب ہجر میں لگتی ہے زباں تالو سے اور نہ پہلو مرا بستر سے ذرا لگتا ہے ہائے محتاج ہوا مرہم زنگار کا تو زخم دل زہر مجھے ہنسنا ترا لگتا ہے آب خنجر جو ہے زہراب وفاداری کو پانی شاید کہ سر ملک فنا لگتا ہے قد مجنوں کوئی پہلے سے چھڑی بید کی ہے جب ذرا جھکتا ہے قد پاؤں سے جا لگتا ہے زرد زاہد ہے تو کیا کھوٹ ابھی ہے دل میں ذوقؔ اس زر کو کسوٹی پہ کسا لگتا ہے
شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا
شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا ہے مرا مرغ نظر پروانہ شمع طور کا اے صنم کیا پوچھتا ہے حال اس رنجور کا دل نہ اٹکائے کہیں اللہ بے مقدور کا لطف جاتا ہے سرود نالۂ پر شور کا خون دل پینا ہے یہ کھانا مجھے سیندور کا وادیٔ ظلمت میں اپنی دخل کب ہے نور کا مہر اک شعلہ سا ہے سو بھی چراغ دور کا تیرے قامت سے جو ہو برپا قیامت سر و پر کام لے منقار سے فریاد قمری صور کا ذوقؔ راہ عشق وہ کوچہ ہے جس کی خاک میں ہے در تاج سلیماں بیضہ بیضہ مور کا