سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگ ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمار جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے لیلیٰ کا ناقہ دشت میں تاثیر عشق سے سن کر فغان قیس بجائے حدی چلے نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے ہو وہی دانش تری نہ کچھ مری دانش وری چلے دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔ اپنی بلا سے باد صبا اب کبھی چلے
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ جنوں دے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو اس صید مضطرب کو تحمل سے ذبح کر دامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تو چھٹتا ہے کون مر کے گرفتار دام زلف تربت پہ اس کی جال کا پائے گا پیڑ تو اے زاہد دو رنگ نہ پیر آپ کو بنا مانند صبح کاذب ابھی ہے ادھیڑ تو یہ تنگنائے دہر نہیں منزل فراغ غافل نہ پاؤں حرص کے پھیلا سکیڑ تو ہو قطع نخل الفت اگر پھر بھی سبز ہو کیا ہو جو پھینکے جڑ ہی سے اس کو اکھیڑ تو جو سوتی بھیڑ باعث غوغا جگائے پھر دروازہ گھر کا اس سگ دنیا پہ بھیڑ تو عمر رواں کا توسن چالاک اس لیے تجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو آوارگی سے کوئے محبت کی ہاتھ اٹھا اے ذوقؔ یہ اٹھا نہ سکے گا کھکھیڑ تو