سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا ہے اور علم و ادب مکتب محبت میں کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہ کہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگر نہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔ کہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا
اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ
اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ ورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ چھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے قرار تیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ کھائے ہے اس مزے سے غم عشق میرا دل جیسے گرسنہ مارے ہے حلوائے تر پہ ہاتھ خط دے کے چاہتا تھا زبانی بھی کچھ کہے رکھا مگر کسی نے دل نامہ بر پہ ہاتھ جوں پنج شاخہ تو نہ جلا انگلیاں طبیب رکھ رکھ کے نبض عاشق تفتہ جگر پہ ہاتھ قاتل یہ کیا ستم ہے کہ اٹھتا نہیں کبھی آ کر مزار کشتۂ تیغ نظر پہ ہاتھ میں ناتواں ہوں خاک کا پروانے کی غبار اٹھتا ہوں رکھ کے دوش نسیم سحر پہ ہاتھ اے شمع ایک چور ہے بادی یہ باد صبح مارے ہے کوئی دم میں ترے تاج زر پہ ہاتھ اے ذوقؔ میں تو بیٹھ گیا دل کو تھام کر اس ناز سے کھڑے تھے وہ رکھ کر کمر پہ ہاتھ