شیخ ابراہیم ذوق

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق

15 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا ہے اور علم و ادب مکتب محبت میں کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہ کہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگر نہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔ کہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا

— شیخ ابراہیم ذوق

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ ورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ چھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے قرار تیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ کھائے ہے اس مزے سے غم عشق میرا دل جیسے گرسنہ مارے ہے حلوائے تر پہ ہاتھ خط دے کے چاہتا تھا زبانی بھی کچھ کہے رکھا مگر کسی نے دل نامہ بر پہ ہاتھ جوں پنج شاخہ تو نہ جلا انگلیاں طبیب رکھ رکھ کے نبض عاشق تفتہ جگر پہ ہاتھ قاتل یہ کیا ستم ہے کہ اٹھتا نہیں کبھی آ کر مزار کشتۂ تیغ نظر پہ ہاتھ میں ناتواں ہوں خاک کا پروانے کی غبار اٹھتا ہوں رکھ کے دوش نسیم سحر پہ ہاتھ اے شمع ایک چور ہے بادی یہ باد صبح مارے ہے کوئی دم میں ترے تاج زر پہ ہاتھ اے ذوقؔ میں تو بیٹھ گیا دل کو تھام کر اس ناز سے کھڑے تھے وہ رکھ کر کمر پہ ہاتھ

— شیخ ابراہیم ذوق