شیخ ابراہیم ذوق

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق

15 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

وقت پیری شباب کی باتیں

وقت پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھو دل خانہ خراب کی باتیں واعظا چھوڑ ذکر نعمت خلد کہہ شراب و کباب کی باتیں مہ جبیں یاد ہیں کہ بھول گئے وہ شب ماہتاب کی باتیں حرف آیا جو آبرو پہ مری ہیں یہ چشم پرآب کی باتیں سنتے ہیں اس کو چھیڑ چھیڑ کے ہم کس مزے سے عتاب کی باتیں جام مے منہ سے تو لگا اپنے چھوڑ شرم و حجاب کی باتیں مجھ کو رسوا کریں گی خوب اے دل یہ تری اضطراب کی باتیں جاؤ ہوتا ہے اور بھی خفقاں سن کے ناصح جناب کی باتیں قصۂ زلف یار دل کے لیے ہیں عجب پیچ و تاب کی باتیں ذکر کیا جوش عشق میں اے ذوقؔ ہم سے ہوں صبر و تاب کی باتیں

— شیخ ابراہیم ذوق