سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے شعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں پر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے نہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہرگز ہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے رخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم مہر و مہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
مذکور تیری بزم میں کس کا نہیں آتا
مذکور تیری بزم میں کس کا نہیں آتا پر ذکر ہمارا نہیں آتا نہیں آتا دیتا دل مضطر کو تیری کچھ تو نشانی پر خط بھی تیرے ہاتھ کا لکھا نہیں آتا ہم رونے پر آجائیں تو دریا ہی بہادیں شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا آتا ہے تو آجا کہ کوئی دم کی ہے فرصت پھر دیکھئے آتا بھی ہے دم یا نہیں آتا قسمت سے ہی لاچار ہوں اے ذوق وگرنہ سب فن میں ہوں طاق مجھے کیا نہیں آتا