سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے غرض تھی کیا ترے تیروں کو آب پیکاں سے مگر زیارت دل کیوں کہ بے وضو کرتے عجب نہ تھا کہ زمانے کے انقلاب سے ہم تیمم آب سے اور خاک سے وضو کرتے اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں گے تو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے سمجھ یہ دار و رسن تار و سوزن اے منصور کہ چاک پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے یقیں ہے صبح قیامت کو بھی صبوحی کش اٹھیں گے خواب سے ساقی سبو سبو کرتے نہ رہتی یوسف کنعاں کی گرمئ بازار مقابلے میں جو ہم تجھ کو روبرو کرتے چمن بھی دیکھتے گلزار آرزو کی بہار تمہاری باد بہاری میں آرزو کرتے سراغ عمر گزشتہ کا کیجئے گر ذوقؔ تمام عمر گزر جائے جستجو کرتے
یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے زندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے زال دنیا ہے عجب طرح کی علامۂ دہر مرد دیں دار کو بھی دہریہ کر دیتی ہے بڑھتی جاتی ہے جو مشق ستم اس ظالم کی کچھ محبت مری اصلاح مگر دیتی ہے فائدہ دے ترے بیمار کو کیا خاک دوا اب تو اکسیر بھی دیجے تو ضرر دیتی ہے شمع گھبرا نہ شب غم سے کہ کوئی دم میں تجھ کو کافور سفیدی سحر دیتی ہے غنچہ ہنستا ہے ترے آگے جو گستاخی سے چٹخنا منہ پہ وہیں باد سحر دیتی ہے شمع بھی کم نہیں کچھ عشق میں پروانے سے جان دیتا ہے اگر وہ تو یہ سر دیتی ہے دم بہ دم زخم پہ اک زخم ہے دم لینے کی مجھ کو فرصت نہیں وہ تیغ نظر دیتی ہے کہتے سنتے نہیں کچھ ہم تو شب ہجر میں پر نالۂ دل کا جواب آہ جگر دیتی ہے تیرہ بختی مری کرتی ہے پریشاں مجھ کو تہمت اس زلف سیہ فام پہ دھر دیتی ہے نخل مژگاں سے ہے کیا جانیے کیا چشم ثمر چشم پانی کی جگہ خون جگر دیتی ہے دیتی شربت ہے کسے زہر بھری آنکھ تری عین احسان ہے وہ زہر بھی گر دیتی ہے کوئی غماز نہیں میری طرف سے اے ذوقؔ کان اس کے مری فریاد ہی بھر دیتی ہے