شیخ ابراہیم ذوق

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق

15 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

وقاراحسن کا پیش کردہ کلام

رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو

رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ جنوں دے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو اس صید مضطرب کو تحمل سے ذبح کر دامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تو چھٹتا ہے کون مر کے گرفتار دام زلف تربت پہ اس کی جال کا پائے گا پیڑ تو اے زاہد دو رنگ نہ پیر آپ کو بنا مانند صبح کاذب ابھی ہے ادھیڑ تو یہ تنگنائے دہر نہیں منزل فراغ غافل نہ پاؤں حرص کے پھیلا سکیڑ تو ہو قطع نخل الفت اگر پھر بھی سبز ہو کیا ہو جو پھینکے جڑ ہی سے اس کو اکھیڑ تو جو سوتی بھیڑ باعث غوغا جگائے پھر دروازہ گھر کا اس سگ دنیا پہ بھیڑ تو عمر رواں کا توسن چالاک اس لیے تجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو آوارگی سے کوئے محبت کی ہاتھ اٹھا اے ذوقؔ یہ اٹھا نہ سکے گا کھکھیڑ تو

— شیخ ابراہیم ذوق