سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حماد ابراہیم
حماد مہر
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سمیعیہ
سید جینٹلمین
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
ندیم بخاری
وقاراحسن
یادرفتگان
وقاراحسن کا پیش کردہ کلام
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ جنوں دے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو اس صید مضطرب کو تحمل سے ذبح کر دامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تو چھٹتا ہے کون مر کے گرفتار دام زلف تربت پہ اس کی جال کا پائے گا پیڑ تو اے زاہد دو رنگ نہ پیر آپ کو بنا مانند صبح کاذب ابھی ہے ادھیڑ تو یہ تنگنائے دہر نہیں منزل فراغ غافل نہ پاؤں حرص کے پھیلا سکیڑ تو ہو قطع نخل الفت اگر پھر بھی سبز ہو کیا ہو جو پھینکے جڑ ہی سے اس کو اکھیڑ تو جو سوتی بھیڑ باعث غوغا جگائے پھر دروازہ گھر کا اس سگ دنیا پہ بھیڑ تو عمر رواں کا توسن چالاک اس لیے تجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو آوارگی سے کوئے محبت کی ہاتھ اٹھا اے ذوقؔ یہ اٹھا نہ سکے گا کھکھیڑ تو