سپیکرز
حماد مہر کا پیش کردہ کلام
قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے
قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے جو طلسمات نہ ٹوٹے تھے کبھو ٹوٹ گئے سیکڑوں کاسہ سر دہر میں مانند حباب کبھو اے چرخ بنے تجھ سے کبھو ٹوٹ گئے ٹانکے کیا جیب کے پھر بعد رفو ٹوٹ گئے ہو کے ناخن کبھی سینے میں فرو ٹوٹ گئے تو جو کہتا ہے کہ دے غیر کو بھی ساغر مے ہاتھ کیا اس کے ہیں اے آئینہ رو ٹوٹ گئے کیونکے بن کشتیٔ مے کیجیے سیر دریا مے کشو زیر بغل اب تو کدو ٹوٹ گئے دیکھ کر سرمے کی تحریر تری آنکھوں میں کافروں کے بھی ہیں زنار گلو ٹوٹ گئے صدمۂ غم سے ترے جوں گل بازی افسوس سارے اعضا مرے اے عربدہ جو ٹوٹ گئے سنگ غیرت سے کئی آئینے اے عہد شکن دیکھ کر صاف ترا روئے نکو ٹوٹ گئے تیر دل سے وہ نکلتے ہیں کوئی جذبۂ شوق نکلے سوفار جو سینے سے گلو ٹوٹ گئے دل شکستہ ہی رہا بعد فنا بھی میں تو کہ مری خاک سے بنتے ہی سبو ٹوٹ گئے شدت گریہ سے تھا رات یہ اشکوں کا ہجوم چشم تر پھر مرے مژگاں کے ہیں مو ٹوٹ گئے گلشن عشق میں اللہ ہے کیا کثرت بار بن ہوا کتنے ہی نخل لب جو ٹوٹ گئے کہہ بہ تبدیل قوافی غزل اک اور بھی ذوقؔ دیکھیں بٹھلائے ہے کس طرح سے تو ٹوٹ گئے
بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں
بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیں تو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں شب وصال کے روز فراق میں کیا کیا نصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں قمر ہی داغ غلامی فقط نہیں رکھتا وہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ہیں ہم ان کے زور کے قائل ہیں ہیں وہی شہ زور جو عشق میں دل مضطر کو تھام لیتے ہیں قتیل ناز بتاتے نہیں تجھے قاتل جب ان سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں ترے اسیر جو صیاد کرتے ہیں فریاد تو پھر وہ دم ہی نہیں زیر دام لیتے ہیں جھکائے ہے سر تسلیم ماہ نو پر وہ غرور حسن سے کس کا سلام لیتے ہیں ترے خرام کے پیرو ہیں جتنے فتنے ہیں قدم سب آن کے وقت خرام لیتے ہیں ہمارے ہاتھ سے اے ذوقؔ وقت مے نوشی ہزار ناز سے وہ ایک جام لیتے ہیں