شیخ ابراہیم ذوق

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق

15 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئی

ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئی رکھے گی یہ نہ بال برابر لگی ہوئی بیٹھے بھرے ہوئے ہیں خُمِ مے کی طرح ہم پر کیا کریں کہ مہر ہے منہ پر لگی ہوئی چاٹے بغیر خون کوئی رہتی ہے تیری تیغ ہے یہ تو اس کو چاٹ ستمگر لگی ہوئی میت کو غسل دیجو نہ اس خاکسار کی ہے تن پہ خاک کوچۂ دلبر لگی ہوئی عیسیٰ بھی گر ہے پاس تو ممکن نہیں شفا خورشید کو وہ تپ ہے فلک پر لگی ہوئی نکلے ہے کب کسی سے کہ اُس کی مژہ کی نوک ہے پھانس سی کلیجے کے اندر لگی ہوئی کرتی ہے زیرِ برقع فانوس تانک جھانک پروانہ سے ہے شمع مقرّر لگی ہوئی بیٹھے ہیں دل کے بیچنے والے ہزار ہا گزرے ہیں اُس کی رہگزر پر لگی ہوئی یہ چاہتا ہے شوق کہ قاصد بجائے مہر آنکھ اپنی ہو لفافۂ خط پر لگی ہوئی منہ سے لگا ہوا ہے اگر جامِ مے تو کیا ہے دل سے یاد ساقیِ کوثر لگی ہوئی

— شیخ ابراہیم ذوق

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا ہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر جو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالا لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے لینے کو خبر اس کی اجل جائے تو اچھا کھینچے دل انساں کو نہ وہ زلف سیہ فام اژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا تاثیر محبت عجب اک حب کا عمل ہے لیکن یہ عمل یار پہ چل جائے تو اچھا دل گر کے نظر سے تری اٹھنے کا نہیں پھر یہ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جائے تو اچھا فرقت میں تری تار نفس سینے میں میرے کانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا اے گریہ نہ رکھ میرے تن خشک کو غرقاب لکڑی کی طرح پانی میں گل جائے تو اچھا ہاں کچھ تو ہو حاصل ثمر نخل محبت یہ سینہ پھپھولوں سے جو پھل جائے تو اچھا وہ صبح کو آئے تو کروں باتوں میں دوپہر اور چاہوں کہ دن تھوڑا سا ڈھل جائے تو اچھا ڈھل جائے جو دن بھی تو اسی طرح کروں شام اور چاہوں کہ گر آج سے کل جائے تو اچھا جب کل ہو تو پھر وہ ہی کہوں کل کی طرح سے گر آج کا دن بھی یوں ہی ٹل جائے تو اچھا القصہ نہیں چاہتا میں جائے وہ یاں سے دل اس کا یہیں گرچہ بہل جائے تو اچھا ہے قطع رہ عشق میں اے ذوقؔ ادب شرط جوں شمع تو اب سر ہی کے بل جائے تو اچھا

— شیخ ابراہیم ذوق