سپیکرز
فائیٹر کا پیش کردہ کلام
دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا
دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا اس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکا شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے میں رہی بھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا ہر نظر سے نظر انداز شدہ منظر ہوں وہ مداری ہوں جو رہ گیر نہیں کھینچ سکا میں نے محنت سے ہتھیلی پہ لکیریں کھینچیں وہ جنہیں کاتب تقدیر نہیں کھینچ سکا میں نے تصویر کشی کر کے جواں کی اولاد ان کے بچپن کی تصاویر نہیں کھینچ سکا مجھ پہ اک ہجر مسلط ہے ہمیشہ کے لئے ایسا جن ہے کہ کوئی پیر نہیں کھینچ سکا تم پہ کیا خاک اثر ہوگا مرے شعروں کا تم کو تو میر تقی میرؔ نہیں کھینچ سکا
کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں
کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں یہی کہیں گے کہ کچھ فائدہ ہوس میں نہیں قریبی لوگوں کی فہرست میں تو ہیں اُس کی مگر یہ دُکھ ہے کہ ہم پہلے آٹھ، دس میں نہیں ہمیں عزیز ہے کردار فتح سے بڑھ کر سو ہم شکست تو کھا لیں گے، جھوٹی قسمیں نہیں نہیں ہے فرض محبت نہ ہو سکی، نہ سہی وہ کام کرنا ہی کیوں ہے جو اپنے بس میں نہیں یہ بھول جا کہ رہائی کبھی ملے گی تجھے ہمارے دھیان میں رہتا ہے تُو قفس میں نہیں تنزلی کا سفر ہم نے ارتقاء کی طرح دہائیوں میں کیا۔۔ ایک، دو برس میں نہیں