عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا اس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکا شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے میں رہی بھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا ہر نظر سے نظر انداز شدہ منظر ہوں وہ مداری ہوں جو رہ گیر نہیں کھینچ سکا میں نے محنت سے ہتھیلی پہ لکیریں کھینچیں وہ جنہیں کاتب تقدیر نہیں کھینچ سکا میں نے تصویر کشی کر کے جواں کی اولاد ان کے بچپن کی تصاویر نہیں کھینچ سکا مجھ پہ اک ہجر مسلط ہے ہمیشہ کے لئے ایسا جن ہے کہ کوئی پیر نہیں کھینچ سکا تم پہ کیا خاک اثر ہوگا مرے شعروں کا تم کو تو میر تقی میرؔ نہیں کھینچ سکا

— عمیر نجمی

کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں

کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں یہی کہیں گے کہ کچھ فائدہ ہوس میں نہیں قریبی لوگوں کی فہرست میں تو ہیں اُس کی مگر یہ دُکھ ہے کہ ہم پہلے آٹھ، دس میں نہیں ہمیں عزیز ہے کردار فتح سے بڑھ کر سو ہم شکست تو کھا لیں گے، جھوٹی قسمیں نہیں نہیں ہے فرض محبت نہ ہو سکی، نہ سہی وہ کام کرنا ہی کیوں ہے جو اپنے بس میں نہیں یہ بھول جا کہ رہائی کبھی ملے گی تجھے ہمارے دھیان میں رہتا ہے تُو قفس میں نہیں تنزلی کا سفر ہم نے ارتقاء کی طرح دہائیوں میں کیا۔۔ ایک، دو برس میں نہیں

— عمیر نجمی