عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے

اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے کہ جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے میں نے زندان میں سیکھا تھا، اسیروں سے، اک اِسم جس کو دیوار پہ پھونکیں تو ہوا آتی ہے خوب رونق تھی اِن آنکھوں میں، پھر اک خواب آیا ایسے، جیسے کسی بستی میں وبا آتی ہے لڑنے جاتے ہیں کہ کچھ مالِ غنیمت لے آئیں اور پھر گھر کی طرف سرخ زرہ آتی ہے اس کو پردے کا تردد نہیں کرنا پڑتا ایسا چہرہ ہے کہ دیکھیں تو حیا آتی ہے ٹھیک ہے، ساتھ رہو میرے، مگر ایک سوال: تم کو وحشت سے حفاظت کی دعا آتی ہے؟ صحن میں پھرتی ہے برسوں کی سدھائی ہوئی یاد جب بھی پُچکار کے کہتا ہوں کہ "آ"، آتی ہے!

— عمیر نجمی

ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی

ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی فلک سے ربط استوار تھا، گھر کی چھت نہیں تھی میں کاروبارِجنوں کو اب ترک کر چکا ہوں وہ کام اچھا تھا لیکن اُس میں بچت نہیں تھی وہ شخص بھی شعر تھا کوئی سہلِ ممتنع میں نہیں کھلا گر چہ اس کی کوئی پرت نہیں تھی بہت سا غم اس لئے منافع گھٹا کے بیچا کیا تھا جتنا برآمد، اتنی کھپت نہیں تھی ہمارا چہرہ بہت سی آنکھوں کا پِیر ہے اب وہ آنکھیں جن کو ملال کی معرفت نہیں تھی اک اور عشق آ گیا تھا دورانِ ہجر، ٹالا ممانعت تو نہیں تھی، مجھ میں سکت نہیں تھی بھلا ہو نم کا کہ اک جگہ پر بٹھا دیا ہے وگرنہ مجھ گرد کی زمیں سے جڑت نہیں تھی

— عمیر نجمی