سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمی قہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئے ایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے میں تو اک عام سپاہی تھا حفاظت کے لئے شاہ زادی یہ ترا حق تھا تجھے شاہ ملے ایک اداسی کے جزیرے پہ ہوں اشکوں میں گھرا میں نکل جاؤں اگر خشک گزر گاہ ملے اک ملاقات کے ٹلنے کی خبر ایسے لگی جیسے مزدور کو ہڑتال کی افواہ ملے گھر پہنچنے کی نہ جلدی نہ تمنا ہے کوئی جس نے ملنا ہو مجھے آئے سر راہ ملے
کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے
کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے آنکھ میں خواب تہہ آب اکٹھے ہوں گے جن کے دل جوڑتے یہ عمر بتا دی میں نے جب مروں گا تو یہ احباب اکٹھے ہوں گے منتشر کر کے زمانوں کو کھنگالا جائے تب کہیں جا کے مرے خواب اکٹھے ہوں گے ایک ہی عشق میں دونوں کا جنوں ضم ہوگا پیاس یکساں ہے تو سیراب اکٹھے ہوں گے مجھ کو رفتار چمک تجھ کو گھٹانی ہوگی ورنہ کیسے زر و سیماب اکٹھے ہوں گے اس کی تہہ سے کبھی دریافت کیا جاؤں گا میں جس سمندر میں یہ سیلاب اکٹھے ہوں گے