عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمی قہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئے ایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے میں تو اک عام سپاہی تھا حفاظت کے لئے شاہ زادی یہ ترا حق تھا تجھے شاہ ملے ایک اداسی کے جزیرے پہ ہوں اشکوں میں گھرا میں نکل جاؤں اگر خشک گزر گاہ ملے اک ملاقات کے ٹلنے کی خبر ایسے لگی جیسے مزدور کو ہڑتال کی افواہ ملے گھر پہنچنے کی نہ جلدی نہ تمنا ہے کوئی جس نے ملنا ہو مجھے آئے سر راہ ملے

— عمیر نجمی

کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے

کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے آنکھ میں خواب تہہ آب اکٹھے ہوں گے جن کے دل جوڑتے یہ عمر بتا دی میں نے جب مروں گا تو یہ احباب اکٹھے ہوں گے منتشر کر کے زمانوں کو کھنگالا جائے تب کہیں جا کے مرے خواب اکٹھے ہوں گے ایک ہی عشق میں دونوں کا جنوں ضم ہوگا پیاس یکساں ہے تو سیراب اکٹھے ہوں گے مجھ کو رفتار چمک تجھ کو گھٹانی ہوگی ورنہ کیسے زر و سیماب اکٹھے ہوں گے اس کی تہہ سے کبھی دریافت کیا جاؤں گا میں جس سمندر میں یہ سیلاب اکٹھے ہوں گے

— عمیر نجمی