سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں، بات سمجھ مرے علاوہ ہیں چھے لوگ منحصر مجھ پر مری ہر ایک مصیبت کو ضرب سات سمجھ فلک سے کٹ کے زمیں پر گری پتنگیں دیکھ تُو ہجر کاٹنے والوں کی نفسیات سمجھ شروع دن سے اُدھیڑا گیا ہے میرا وجود جو دُکھ رہا ہے اسے میری باقیات سمجھ کتابِ عشق میں ہر آہ، ایک آیت ہے اور آنسوؤں کو حروفِ مقطعات سمجھ کریں یہ کام تو کنبے کا دن گزرتا ہے ہمارے ہاتھوں کو گھر کی گھڑی کے ہاتھ سمجھ دل و دماغ ضروری ہیں زندگی کے لئے یہ ہاتھ پاؤں اضافی سہولیات سمجھ
گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں
گزشتہ شب ۔۔۔ یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں میں اِس اذیّت میں ' ساٹھ پینسٹھ مِنٹ رہا ہوں تو مجھ کو رونے دے یار! شانے پہ ہاتھ مت رکھ میں گیلے کاغذ کی طرح چُھونے سے پَھٹ رہا ہوں یقین کر ۔۔ سخت' سرد ' بےجان آدمی تھا گلے مِلا تو لگا ستوں سے لِپٹ رہا ہوں وہ ہجر تھا ' جس نے نم کیا اور بَل نکالے میں جتنا سیدھا ہوں' اِس کا بالکل الٹ رہا ہوں سنا تھا : ہر ایک شے حرارت سے پھیلتی ہے تجھ آگ کے پاس ہو کے میں کیوں سمٹ رہا ہوں؟ پڑوس میں پیڑ کٹ رہا ہے' میں کان ڈھانپے درخت کے فائدوں پہ مضمون رٹ رہا ہوں اخیر ۔۔۔ بے کار شے تھا میں کارِ عشق سے قبل سمجھ لے' سوکھے ہوئے کنویں کا رہَٹ رہا ہوں