سپیکرز
حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں نہیں لگے گا اسے دیکھ کر مگر خوش ہے میں خوش نہیں ہوں مگر دیکھ کر لگے گا نہیں ہمارے دل کو ابھی مستقل پتا نہ بنا ہمیں پتا ہے ترا دل ادھر لگے گا نہیں جنوں کا حجم زیادہ تمہارا ظرف ہے کم ذرا سا گملا ہے اس میں شجر لگے گا نہیں اک ایسا زخم نما دل قریب سے گزرا دل اس کو دیکھ کے چیخا ٹھہر لگے گا نہیں جنوں سے کند کیا ہے سو اس کے حسن کا کیل مرے سوا کسی دیوار پر لگے گا نہیں بہت توجہ تعلق بگاڑ دیتی ہے زیادہ ڈرنے لگیں گے تو ڈر لگے گا نہیں
مو قلم توڑ چکا آخری تصویر کے بعد
مو قلم توڑ چکا آخری تصویر کے بعد مجھ سے کچھ بنتا نہیں تھا تری تصویر کے بعد مشترک دوست بھی چھوڑے ہیں تجھے چھوڑنے پر مجھ کو دیوار ہٹانا پڑی تصویر کے بعد اک ملاقات ہوئی وہ بھی بچھڑنے کے لیے کیمرا ٹوٹ گیا ایک ہی تصویر کے بعد یار تصویر میں تنہا ہوں مگر لوگ ملے کئی تصویر سے پہلے کئی تصویر کے بعد میں جو کچھ اور تھا اب اور ہی کچھ لگتا ہوں یعنی تدوین بہت کی گئی تصویر کے بعد خشک دیوار میں سیلن کا سبب کیا ہو گا اک عدد زنگ لگی کیل تھی تصویر کے بعد بھیج دیتا ہوں مگر پہلے بتا دوں تجھ کو مجھ سے ملتا نہیں کوئی مری تصویر کے بعد دوسرا عشق میسر ہے مگر کرتا نہیں کون دیکھے گا پرانی نئی تصویر کے بعد