عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں نہیں لگے گا اسے دیکھ کر مگر خوش ہے میں خوش نہیں ہوں مگر دیکھ کر لگے گا نہیں ہمارے دل کو ابھی مستقل پتا نہ بنا ہمیں پتا ہے ترا دل ادھر لگے گا نہیں جنوں کا حجم زیادہ تمہارا ظرف ہے کم ذرا سا گملا ہے اس میں شجر لگے گا نہیں اک ایسا زخم نما دل قریب سے گزرا دل اس کو دیکھ کے چیخا ٹھہر لگے گا نہیں جنوں سے کند کیا ہے سو اس کے حسن کا کیل مرے سوا کسی دیوار پر لگے گا نہیں بہت توجہ تعلق بگاڑ دیتی ہے زیادہ ڈرنے لگیں گے تو ڈر لگے گا نہیں

— عمیر نجمی

مو قلم توڑ چکا آخری تصویر کے بعد

مو قلم توڑ چکا آخری تصویر کے بعد مجھ سے کچھ بنتا نہیں تھا تری تصویر کے بعد مشترک دوست بھی چھوڑے ہیں تجھے چھوڑنے پر مجھ کو دیوار ہٹانا پڑی تصویر کے بعد اک ملاقات ہوئی وہ بھی بچھڑنے کے لیے کیمرا ٹوٹ گیا ایک ہی تصویر کے بعد یار تصویر میں تنہا ہوں مگر لوگ ملے کئی تصویر سے پہلے کئی تصویر کے بعد میں جو کچھ اور تھا اب اور ہی کچھ لگتا ہوں یعنی تدوین بہت کی گئی تصویر کے بعد خشک دیوار میں سیلن کا سبب کیا ہو گا اک عدد زنگ لگی کیل تھی تصویر کے بعد بھیج دیتا ہوں مگر پہلے بتا دوں تجھ کو مجھ سے ملتا نہیں کوئی مری تصویر کے بعد دوسرا عشق میسر ہے مگر کرتا نہیں کون دیکھے گا پرانی نئی تصویر کے بعد

— عمیر نجمی