عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا

جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا میں عشق میں مبتلا تھا تب کچھ نہیں پتہ تھا یہ ڈھونڈھتے ہو جو اب جنوں سے فرار کی راہ تم اس طرف آئے کیوں تھے جب کچھ نہیں پتہ تھا سمجھ نہیں آ رہی تھی روؤں پھروں کہ سوؤں تھی ہجر کی پہلی پہلی شب کچھ نہیں پتہ تھا مجھے بس اتنا پتہ تھا افسردگی بہت ہے نتیجہ دورانیہ سبب کچھ نہیں پتہ تھا میں چومتا تھا وہ ہاتھ دیوانہ وار نجمیؔ وہ خبط تھا عشق یا ادب کچھ نہیں پتہ تھا

— عمیر نجمی