عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں

منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں آنکھیں ویسے ٹھیک ہیں شاید نم ہوتی ہیں دریا تھوڑی ہوں جو اپنا رستہ بدلوں صحرا کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں رونا ہو تو تنہا ہونا شرط نہیں ہے یہ برساتیں اکثر بے موسم ہوتی ہیں جو بھی فیصلہ کرنا ہو بس جلدی کرنا مجھ جیسے لوگوں کی عمریں کم ہوتی ہیں باپ کا کندھا توڑ نہ دے یہ چھوٹا تابوت یہ چھوٹی لاشیں بھاری بھرکم ہوتی ہیں خاموشی ترتیب میں رکھتی ہے آوازیں ورنہ یہ آوارہ بے‌ ہنگم ہوتی ہیں عشق میں کیا تیاری کیا منصوبہ بندی یہ ان چیزوں میں ہے جو یکدم ہوتی ہیں

— عمیر نجمی

زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی

زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی میرے انداز سے ہر بار زیادہ نکلی کوئی روزن نہ جھروکا نہ کوئی دروازہ میری تعمیر میں دیوار زیادہ نکلی یہ مری موت کے اسباب میں لکھا ہو گا خون میں عشق کی مقدار زیادہ نکلی کتنی جلدی دیا گھر والوں کو پھل اور سایہ مجھ سے تو پیڑ کی رفتار زیادہ نکلی تو سمجھتا تھا مجھے تو نے ہی برتا ہے عمیرؔ زندگی تجھ سے بھی فن کار زیادہ نکلی

— عمیر نجمی