عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں

اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں سب دیکھتے تھے آنکھ جھپکتا نہیں تھا میں ایسی دبیز تہ تھی بدن پر ملال کی جلنے کے باوجود چمکتا نہیں تھا میں اندر کی ٹوٹ پھوٹ میں ٹوٹے ہیں لفظ بھی دوران گفتگو یوں اٹکتا نہیں تھا میں کچھ کچھ شعور ہجر مجھے کمسنی سے تھا سو ٹہنیوں سے پھول اچکتا نہیں تھا میں اک عطر ساز لمس نے تکمیل کی مری ورنہ کھلا ہوا بھی مہکتا نہیں تھا میں گریہ شروع سے تھا پسندیدہ مشغلہ گھنٹوں بھی کرتا رہتا تو تھکتا نہیں تھا میں اچھا ہوا خود اس کی نظر مجھ پہ پڑ گئی اس کو وہاں پکار تو سکتا نہیں تھا میں

— عمیر نجمی

اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا

اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا میں گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر میں بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں میں ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ یعنی تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر نہ ہوگی کہ میں آس پاس ہوں اس بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار اگر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل میں بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا میں چاہ کر وہ شکل مکمل نہ کر سکا اس کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا

— عمیر نجمی