سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں
اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں سب دیکھتے تھے آنکھ جھپکتا نہیں تھا میں ایسی دبیز تہ تھی بدن پر ملال کی جلنے کے باوجود چمکتا نہیں تھا میں اندر کی ٹوٹ پھوٹ میں ٹوٹے ہیں لفظ بھی دوران گفتگو یوں اٹکتا نہیں تھا میں کچھ کچھ شعور ہجر مجھے کمسنی سے تھا سو ٹہنیوں سے پھول اچکتا نہیں تھا میں اک عطر ساز لمس نے تکمیل کی مری ورنہ کھلا ہوا بھی مہکتا نہیں تھا میں گریہ شروع سے تھا پسندیدہ مشغلہ گھنٹوں بھی کرتا رہتا تو تھکتا نہیں تھا میں اچھا ہوا خود اس کی نظر مجھ پہ پڑ گئی اس کو وہاں پکار تو سکتا نہیں تھا میں
اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا
اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا میں گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر میں بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں میں ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ یعنی تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر نہ ہوگی کہ میں آس پاس ہوں اس بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار اگر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل میں بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا میں چاہ کر وہ شکل مکمل نہ کر سکا اس کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا