سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے بچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گے بدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے نظر میں رکھنا کہیں کوئی غم شناس گاہک مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے یہ تیس برسوں سے کچھ برس پیچھے چل رہی ہے مجھے گھڑی کا خراب پرزہ نکالنا ہے خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں جو کٹ گیا اس شجر کا شجرہ نکالنا ہے میں ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلم کار مجھے کہانی میں ڈال غصہ نکالنا ہے
لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا
لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا چیخوف اُسے پسند تھا اور مجھ کو کافکا میں گھومتا ہوں، گھومتی کرسی پہ، دل کے گِرد لیتا ہوں اجر، خانہِ رب کے طواف کا مجھ کو سزا سنا دی گئی، دی بھی جا چکی تو اب بھی منتظر ہے مرے اعتراف کا؟ اُس دل سے ہو کے نور مڑا جب مری طرف سمجھا میں پہلی بار،اصول انعطاف کا خلوت منائیں، دھیان لگائیں، دروں کو جائیں موقع بھی دے رہی ہے وبا، اعتکاف کا سردی تھی یا اندھیرے کا ڈر تھا کہ رات، خوف کونا پکڑ کے بیٹھ گیا تھا لحاف کا کندہ کیا ہے عشق نے اک زخم روح پر کیسا نیا طریقہ ہے آٹو گراف کا یکتائی کیا ہے، یہ تجھے سمجھائے گا وہ شخص مرکز سمجھ چکا ہو جو کالے شگاف کا