عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے بچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گے بدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے نظر میں رکھنا کہیں کوئی غم شناس گاہک مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے یہ تیس برسوں سے کچھ برس پیچھے چل رہی ہے مجھے گھڑی کا خراب پرزہ نکالنا ہے خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں جو کٹ گیا اس شجر کا شجرہ نکالنا ہے میں ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلم کار مجھے کہانی میں ڈال غصہ نکالنا ہے

— عمیر نجمی

لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا

لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا چیخوف اُسے پسند تھا اور مجھ کو کافکا میں گھومتا ہوں، گھومتی کرسی پہ، دل کے گِرد لیتا ہوں اجر، خانہِ رب کے طواف کا مجھ کو سزا سنا دی گئی، دی بھی جا چکی تو اب بھی منتظر ہے مرے اعتراف کا؟ اُس دل سے ہو کے نور مڑا جب مری طرف سمجھا میں پہلی بار،اصول انعطاف کا خلوت منائیں، دھیان لگائیں، دروں کو جائیں موقع بھی دے رہی ہے وبا، اعتکاف کا سردی تھی یا اندھیرے کا ڈر تھا کہ رات، خوف کونا پکڑ کے بیٹھ گیا تھا لحاف کا کندہ کیا ہے عشق نے اک زخم روح پر کیسا نیا طریقہ ہے آٹو گراف کا یکتائی کیا ہے، یہ تجھے سمجھائے گا وہ شخص مرکز سمجھ چکا ہو جو کالے شگاف کا

— عمیر نجمی