عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ

ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ نصاب عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگ دباؤ میں بھی جماعت کبھی نہیں بدلی شروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ جو سیکھنی ہو زبان سکوت بسم اللہ خموشیوں کی مکمل لغات ہیں ہم لوگ کہانیوں کے وہ کردار جو لکھے نہ گئے خبر سے حذف شدہ واقعات ہیں ہم لوگ یہ انتظار ہمیں دیکھ کر بنایا گیا ظہور ہجر سے پہلے کی بات ہیں ہم لوگ کسی کو راستہ دے دیں کسی کو پانی نہ دیں کہیں پہ نیل کہیں پر فرات ہیں ہم لوگ ہمیں جلا کے کوئی شب گزار سکتا ہے سڑک پہ بکھرے ہوئے کاغذات ہیں ہم لوگ

— عمیر نجمی

چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو

چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو روشنی ہو مگر اتنی ہو کہ محسوس نہ ہو کیسے کھل پائے یہ رعشہ ہے کہ بھونچال اگر کمرے کی چھت سے لٹکتا ہوا فانوس نہ ہو زندگی لمبی تو ہو سکتی ہے بے انت نہیں خود کشی کی بھی سہولت ہے تو مایوس نہ ہو تو دعا کر کہ میں روتا رہوں صحرا نہ بنوں خاک اور نم کا تناسب کبھی معکوس نہ ہو جسم کا امن سبوٹاژ کئے رکھتی ہے روح دراصل سماوات کی جاسوس نہ ہو کوئی آسیب بھی چھیڑے نہ مری تنہائی ایسا گھر دیکھ جو خالی تو ہو منحوس نہ ہو اب یہ زردی بھی بھگتنا تو پڑے گی کچھ دن میں نہ کہتا تھا ہرے رنگ میں ملبوس نہ ہو

— عمیر نجمی