عمیر نجمی

نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)

01 January 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے

جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے یہ کام کر رہا ہوں میں بتیس سال سے پہلے تو ناخنوں سے تراشے کئی پہاڑ پھر اس کے بعد زخم کریدے کدال سے کُھلتی تھی اک مکان کی کھڑکی، جنوبی سمت سورج طلوع ہوتا تھا میرا شمال سے ایسا نہیں کہ ہجر ہوا مجھ میں صرف جذب ظاہر بھی ہو رہا ہے مرے خدوخال سے یہ زخم اُس کا آخری تحفہ ہے، کچھ کرو! کچھ بھی کرو! بچاؤ اِسے اندمال سے اک ہجرِ ممکنہ مرے کافی قریب ہے دیمک ذرا سی دور ہے لکڑی کے ٹال سے قبل از سفر، درونِ سفر، بعد از سفر کہتا تھا کوئی کان میں :" نجمی! خیال سے!"

— عمیر نجمی

لگتا ہے کر کے لمبا سفر آ رہا ہوں میں

جھ تک رسائی سہل نہیں ہے ادھر نہ آ تو خود کہاں کھڑا ہے ٹھہر آ رہا ہوں میں ہر روز کیوں پگھل کے ٹپکتا ہوں آنکھ سے کیسی تپش کے زیر اثر آ رہا ہوں میں کچھ بھی یہاں نیا نہیں لگتا مجھے عمیرؔ شاید زمیں پہ بار دگر آ رہا ہوں میں

— عمیر نجمی