اسماعیل راز

ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز

30 April 2026

14سپیکرز
163لسنرز

سپیکرز

عثمان سعید کا پیش کردہ کلام

پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئے

پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئے ہم خواہشوں کے ملبے میں دب کر مرے ہوئے اے شخص تو نے غور سے دیکھا نہیں ہمیں ہم لوگ تو وہی ہیں ترے رد کرے ہوئے پی پی کے بھی وہ تجھ کو نہ آیا بہار پر ہم ہیں کہ دیکھ دیکھ کے تجھ کو ہرے ہوئے وہ خوش نصیب دل میں سجایا گیا اسے ہم رہ گئے جہاں کے وہیں پر دھرے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں سہم کے بزم جہاں میں ہم کرتوت اہل بزم جہاں سے ڈرے ہوئے

— اسماعیل راز