اسماعیل راز

ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز

30 April 2026

14سپیکرز
163لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتی

دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتی اب تو تجھ سے بھی محبت نہیں کی جا سکتی ظلم اتنے کیے اس نے کہ وہ اب قدموں میں سر بھی رکھ دے تو مروت نہیں کی جا سکتی پاس رہنا ہی تقاضائے محبت تو نہیں اتنی سی بات پہ نفرت نہیں کی جا سکتی جستجو میں تری میں جان بکف پھرتا ہوں عشق میں خود سے محبت نہیں کی جا سکتی ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اب کسی بات پہ حیرت نہیں کی جا سکتی

— اسماعیل راز