اسماعیل راز

ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز

30 April 2026

14سپیکرز
163لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے

پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے شراب خانے میں آدھا گلاس بھی نہیں ہے میں دل کو لے کے کہاں نکلوں اتنی رات گئے مکان اس کا کہیں آس پاس بھی نہیں ہے کسی بھی بات کو لے کر الجھتے رہتے ہیں یہ ملنا جلنا ہم ایسوں کو راس بھی نہیں ہے یہاں تو لڑکیاں اچھا سا گھر بھی چاہتی ہیں ہمارے پاس تو اچھا لباس بھی نہیں ہے یہ شہر تو بہت اچھا ہے اپنے گاؤں سے کہ راہ چلتوں کا کوئی تراس بھی نہیں ہے

— اسماعیل راز