اسماعیل راز

ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز

30 April 2026

14سپیکرز
163لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی

کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی ہم ایسے ہو گئے کیسے نظیر پتھر کی تو چپ کیا ترے بارے میں پوچھ کر اس کو بتا رہا تھا فضیلت فقیر پتھر کی بدلتے موسموں کا ہم پہ کچھ اثر ہی نہیں ہماری روح ہے جیسے اسیر پتھر کی ہمارے دور کا ہر رانجھا بت پرست ہے رازؔ ہمارے دور کی ہر ایک ہیر پتھر کی

— اسماعیل راز