اسماعیل راز

ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز

30 April 2026

14سپیکرز
163لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر

در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر اٹھ جاتا ہے آہٹ پہ بھی ماتم مرے اندر گونجے ہیں ابھی تک کسی مقتول کی چیخیں قائم ہے ابھی خوف کا عالم مرے اندر میں زد میں فسادوں کی اک آیا ہوا گھر ہوں ہر چیز ہے اب درہم و برہم مرے اندر اب کوئی خوشی مجھ میں پنپتی ہی نہیں ہے آسیب کی صورت ہے ترا غم مرے اندر میں ہجر کا مارا ہوں سو ہوتا ہے ہر اک شام سورج کی جدائی پہ بھی ماتم مرے اندر

— اسماعیل راز