اسماعیل راز

ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز

30 April 2026

14سپیکرز
163لسنرز

سپیکرز

ثاقب ابرار کا پیش کردہ کلام

زمانہ اس لیے لہجہ بدل رہا ہے دوست

زمانہ اس لیے لہجہ بدل رہا ہے دوست ہمارا وقت ذرا پیچھے چل رہا ہے دوست میں مسکرا رہا ہوں تیری رخصتی پہ اگر تو مجھ میں کون ہے جو ہاتھ مل رہا ہے دوست نہ مل سکی مرے حصے کی روشنی بھی مجھے مرا چراغ کہیں اور جل رہا ہے دوست پلید کر کے ہمارے وجود کی مٹی ہمارے نام کا سورج نکل رہا ہے دوست بتائیں کیا تجھے اب خستہ حالیٔ دل رازؔ شکستہ خواب کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے دوست

— اسماعیل راز