سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
امل خان
پرشانت
ثاقب ابرار
جاسمین
ریحان
سحربیاں
سید جینٹلمین
عابد خان
عثمان سعید
فخر
ملک
نایاب
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا
تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں میں نے شہر کو یعنی میں ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا اس کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دے پھر کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا ہائے وہ آنکھیں ٹاٹ کو تکتے ہی بجھ گئیں ہائے وہ دل کہ جانب مخمل نہیں گیا تیرے مکاں کے بعد قدم ہی نہیں اٹھے تیرے مکاں سے آگے میں پیدل نہیں گیا
ایک صحرا میں بو دیا ہے مجھے
ایک صحرا میں بو دیا ہے مجھے میرے لوگوں نے کھو دیا ہے مجھے اس لئے بھی مجھے عزیز ہے تو کم سے کم زخم تو دیا ہے مجھے اب کے اشکوں میں تیرا غم بھی گیا اب کی بارش نے دھو دیا ہے مجھے دھڑکنیں اور کسی کے واسطے ہیں تو یہ دل نام کو دیا ہے مجھے آج تو میرا ہنسنا بنتا ہے آج تو وہ بھی رو دیا ہے مجھے