اسماعیل راز

ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز

30 April 2026

14سپیکرز
163لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں میں نے شہر کو یعنی میں ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا اس کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دے پھر کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا ہائے وہ آنکھیں ٹاٹ کو تکتے ہی بجھ گئیں ہائے وہ دل کہ جانب مخمل نہیں گیا تیرے مکاں کے بعد قدم ہی نہیں اٹھے تیرے مکاں سے آگے میں پیدل نہیں گیا

— اسماعیل راز

ایک صحرا میں بو دیا ہے مجھے

ایک صحرا میں بو دیا ہے مجھے میرے لوگوں نے کھو دیا ہے مجھے اس لئے بھی مجھے عزیز ہے تو کم سے کم زخم تو دیا ہے مجھے اب کے اشکوں میں تیرا غم بھی گیا اب کی بارش نے دھو دیا ہے مجھے دھڑکنیں اور کسی کے واسطے ہیں تو یہ دل نام کو دیا ہے مجھے آج تو میرا ہنسنا بنتا ہے آج تو وہ بھی رو دیا ہے مجھے

— اسماعیل راز