حیدر علی آتش

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش

22 January 2026

20سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

فاران وڑائچ کا پیش کردہ کلام

تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا

تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا ذرا سنبل کو لہرایا تو ہوتا رخ بے داغ دکھلایا تو ہوتا گل لالہ کو شرمایا تو ہوتا چلے گا کبک کیا رفتار تیری یہ انداز قدم پایا تو ہوتا کہے جاتے وہ سنتے یا نہ سنتے زباں تک حال دل آیا تو ہوتا سمجھتا یا نہ اے آتشؔ سمجھتا دل مضطر کو سمجھایا تو ہوتا

— حیدر علی آتش