حیدر علی آتش

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش

22 January 2026

20سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا

عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا داغِ دِل خندہ زن، زخمِ جِگر کوئی نہ تھا جوہری کی آنکھ سے دیکھے جواہر بیشتر لعلِ لب سالعل، دنداں سا گُہر کوئی نہ تھا خوب صُورت یُوں تو بہتیرے تھے، لیکن یار سا! نازنیں، نازک بدن، نازک کمر کوئی نہ تھا رہ گئی دِل ہی میں اپنے حسرتِ اِظہارِ شوق لکھ کے خط جب ہم نے ڈھونڈھا، نامہ برکوئی نہ تھا دوست دشمن، یار رکھتا ، خاطر اپنی کیا عزیز عیبِ اُلفت کے سِوا، ہم میں ہُنر کوئی نہ تھا دیدہ و دِل تھے منوّر تیرے نُورِ حُسن سے جلوہ فرما ہو نہ تُوجس میں، وہ گھر کوئی نہ تھا عشق کِس کو حُسنِ دلکش سے نہ تھا، اے جانِ جاں! فکر سے غافِل تِری، جِن و بَشر کوئی نہ تھا چاشنی دونوں کی چکھی ہےجو حق حق پُوچھیے اُن لَبِ شِیرِیں سے شِیرِیں نیشکر کوئی نہ تھا لے چَلےہستی سے داغِ عِشق آتشؔ ،شُکر ہے منزِلِ مُلکِ عَدم کا، ہمسفر کوئی نہ تھا

— حیدر علی آتش

برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں

برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں گھر کو لگے جو آگ تو پانی بجھاؤں میں جنس گراں بہا کا خریدار کون ہے یکتا نہیں الٰہی جو چوری ہی جاؤں میں لالہ رخوں کے حسن کا بھوکا ہوں اس قدر دل ہو نہ سیر لاکھ اگر داغ کھاؤں میں آنکھیں مری کرے جو منور جمال یار گھی کے چراغ طور کے اوپر جلاؤں میں مردے کی طرح سوتے ہیں کیسے مرے نصیب ٹھوکر سے پائے یار کے ان کو جگاؤں میں بوسہ ملے کماں کا جو ابروئے یار کی محراب بیت کعبہ میں چلا چڑھاؤں میں جی چاہتا ہے شوق شہادت میں قبل مرگ بنوا کے قبر لالہ کو اس پر لگاؤں میں گھر میں جو مجھ فقیر کے وہ شاہ حسن آئے مژگاں کے بوریے جو کھڑے ہیں بچھاؤں میں کانٹا سکھا کے ہجر نے ہر چند کر دیا وہ گل بدن ملے تو نہ پھولا سماؤں میں تم تو غریب خانہ میں آئے نہ ایک روز فرمائیے تو شب کو کسی وقت آؤں میں باریک بیں ہوں شاعر نازک خیال ہوں مضموں جہاں کمر کا ملے باندھ لاؤں میں آتشؔ غلام ساقی کوثر ہوں چاہئے فردوس کا کھلا ہوا دروازہ پاؤں میں

— حیدر علی آتش