سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا
چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا یقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا ان انکھڑیوں میں اگر نشۂ شراب آیا سلام جھک کے کروں گا جو پھر حجاب آیا کسی کے محرم آب رواں کی یاد آئی حباب کے جو برابر کبھی حباب آیا شب فراق میں مجھ کو سلانے آیا تھا جگایا میں نے جو افسانہ گو کو خواب آیا عدم میں ہستی سے جا کر یہی کہوں گا میں ہزار حسرت زندہ کو گاڑ داب آیا چکور حسن مہ چار دہ کو بھول گیا مراد پر جو ترا عالم شباب آیا محبت مے و معشوق ترک کر آتشؔ سفید بال ہوئے موسم خضاب آیا
غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
غیرت مہر رشک ماہ ہو تم خوب صورت ہو بادشاہ ہو تم جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیا حسن سے تیغ بے پناہ ہو تم کیوں کر آنکھیں نہ ہم کو دکھلاؤ کیسے خوش چشم خوش نگاہ ہو تم حسن میں آپ کے ہے شان خدا عشق بازوں کے سجدہ گاہ ہو تم ہر لباس آپ کو ہے زیبندہ جامہ زیبوں کے بادشاہ ہو تم فوق ہے سارے خوش جمالوں پر وہ ستارے جو ہیں تو ماہ ہو تم ہم سے پردہ وہی حجاب کا ہے کوچہ گردوں سے رو براہ ہو تم کیوں محبت بڑھائی تھی تم سے ہم گنہ گار بے گناہ ہو تم جو کہ حق وفا بجا لائے شاہد اللہ ہے گواہ ہو تم ہے تمہارا خیال پیش نظر جس طرف جائیں سد راہ ہو تم دونوں بندے اسی کے ہیں آتشؔ خواہ ہم اس میں ہوویں خواہ ہو تم