حیدر علی آتش

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش

22 January 2026

20سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا یقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا ان انکھڑیوں میں اگر نشۂ شراب آیا سلام جھک کے کروں گا جو پھر حجاب آیا کسی کے محرم آب رواں کی یاد آئی حباب کے جو برابر کبھی حباب آیا شب فراق میں مجھ کو سلانے آیا تھا جگایا میں نے جو افسانہ گو کو خواب آیا عدم میں ہستی سے جا کر یہی کہوں گا میں ہزار حسرت زندہ کو گاڑ داب آیا چکور حسن مہ چار دہ کو بھول گیا مراد پر جو ترا عالم شباب آیا محبت مے و معشوق ترک کر آتشؔ سفید بال ہوئے موسم خضاب آیا

— حیدر علی آتش

غیرت مہر رشک ماہ ہو تم

غیرت مہر رشک ماہ ہو تم خوب صورت ہو بادشاہ ہو تم جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیا حسن سے تیغ بے پناہ ہو تم کیوں کر آنکھیں نہ ہم کو دکھلاؤ کیسے خوش چشم خوش نگاہ ہو تم حسن میں آپ کے ہے شان خدا عشق بازوں کے سجدہ گاہ ہو تم ہر لباس آپ کو ہے زیبندہ جامہ زیبوں کے بادشاہ ہو تم فوق ہے سارے خوش جمالوں پر وہ ستارے جو ہیں تو ماہ ہو تم ہم سے پردہ وہی حجاب کا ہے کوچہ گردوں سے رو براہ ہو تم کیوں محبت بڑھائی تھی تم سے ہم گنہ گار بے گناہ ہو تم جو کہ حق وفا بجا لائے شاہد اللہ ہے گواہ ہو تم ہے تمہارا خیال پیش نظر جس طرف جائیں سد راہ ہو تم دونوں بندے اسی کے ہیں آتشؔ خواہ ہم اس میں ہوویں خواہ ہو تم

— حیدر علی آتش