سپیکرز
افراسیاب کا پیش کردہ کلام
روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا
روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا لالہ ساں داغ اٹھانے کو ہوئے ہم پیدا ہوں میں وہ نخل کہ ہر شاخ مری آرا ہے ہوں میں وہ شاخ کہ ہوں برگ تبردم پیدا میں جو روتا ہوں مرے زخم جگر ہنستے ہیں شادی و غم سے کیا ہے مجھ توام پیدا چاہنے والے ہزاروں نئے موجود ہوئے خط نے اس گل کے کیا اور ہی عالم پیدا درد سر میں ہو کسی کے تو مرے دل میں ہو درد واسطے میرے ہوا ہے غم عالم پیدا زخم خنداں ہیں بعینہ لب خنداں اپنے شادمانی میں ہے یاں حالت ماتم پیدا آسماں شوق سے تلواروں کا مینہ برسا دے مہ نو نے ترے ابرو کا کیا خم پیدا کام اپنا نہ ہوا جب کجیٔ ابرو سے گیسوئے یار ہوئے درہم و برہم پیدا شبہ ہوتا ہے صدف کا مجھے ہر غنچے پر کہیں موتی نہ کریں قطرۂ شبنم پیدا چپ رہو دور کرو منہ نہ مرا کھلواؤ غافلو زخم زباں کا نہیں مرہم پیدا قلزم فکر میں ہر چند لگائے غوطے در مضموں کوئی یاروں سے ہوا کم پیدا دوست ہی دشمن جاں ہو گیا اپنا آتشؔ نوش داروں نے کیا یاں اثر سم پیدا
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا نکالے تھے دو چاند اس نے مقابل وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل فرح ناک تھی روح دل شادماں تھا مشاہد جمال پری کی تھی آنکھیں مکان وصال اک طلسمی مکاں تھا حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی کھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا کیا تھا اسے بوسہ بازی نے پیدا کمر کی طرح سے جو غائب دہاں تھا حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا