سپیکرز
غالب کا پیش کردہ کلام
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا اڑتا ہے شوق راحت منزل سے اسپ عمر مہمیز کہتے ہیں گے کسے تازیانہ کیا زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا صیاد اسیر دام رگ گل ہے عندلیب دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے دام و دانہ کیا طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا آتی ہے کس طرح سے مرے قبض روح کو دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا ہوتا ہے زرد سن کے جو نامرد مدعی رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا ترچھی نگہ سے طائر دل ہو چکا شکار جب تیر کج پڑے تو اڑے گا نشانہ کیا صیاد گل عذار دکھاتا ہے سیر باغ بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں مہماں سرائے جسم کا ہوگا روانہ کیا یوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا
مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں
مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں وہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیں نہ تجھے دماغ نگاہ ہے نہ کسی کو تاب جمال ہے انہیں کس طرح سے دکھاؤں میں وہ جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں کسے نیند آتی ہے اے صنم ترے طاق ابرو کی یاد میں کبھی آشنائے تہ بغل سر مرغ قبلہ نما نہیں عجب اس کا کیا نہ سماؤں میں جو خیال دشمن و دوست ہے وہ مقام ہوں کہ گزر نہیں وہ مکان ہوں کہ پتا نہیں یہ خلاف ہو گیا آسماں یہ ہوا زمانہ کی پھر گئی کہیں گل کھلے بھی تو بوند سے کہیں حسن ہے تو وفا نہیں مرض جدائی یار نے یہ بگاڑ دی ہے ہماری خو کہ موافق اپنے مزاج کے نظر آتی کوئی دوا نہیں مجھے زعفران سے زرد تر غم ہجر یار نے کر دیا نہیں ایسا کوئی زمانہ میں مرے حال پر جو ہنسا نہیں مرے آگے اس کو فروغ ہو یہ مجال کیا ہے رقیب کی یہ ہجوم جلوۂ یار ہے کہ چراغ خانہ کو جا نہیں چلیں گو کہ سیکڑوں آندھیاں جلیں گرچہ لاکھ گھر اے فلک بھڑک اٹھے آتشؔ طور پھر کوئی اس طرح کی دوا نہیں