حیدر علی آتش

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش

22 January 2026

20سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

اسرار حسین کا پیش کردہ کلام

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا رات بھر طالع بے دار نے سونے نہ دیا خاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیا دھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا شام سے وصل کی شب آنکھ نہ جھپکی تا صبح شادیٔ دولت دیدار نے سونے نہ دیا ایک شب بلبل بے تاب کے جاگے نہ نصیب پہلوئے گل میں کبھی خار نے سونے نا دیا رات بھر کی دل بیتاب نے باتیں مجھ سے رنج و محنت کے گرفتار نے سونے نہ دیا سچ ہے غم خواریٔ بیمار عذاب جاں ہے تا دم مرگ دل زار نے سونے نہ دیا تکیہ تک پہلو میں اس گل نے نہ رکھا آتشؔ غیر کو ساتھ کبھی یار نے سونے نہ دیا

— حیدر علی آتش