حیدر علی آتش

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش

22 January 2026

20سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

راشد نور کا پیش کردہ کلام

صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی

صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی دیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی آنکھوں کو کھول اگر تو دیدار کا ہے بھوکا چودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی ثابت ترے دہن کو کیا منطقی کریں گے ایسی دلیل ایسی حجت نہیں ہے کوئی یہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سے پی جائے گا کسی کو شربت نہیں ہے کوئی میں نے کہا کبھی تو تشریف لاؤ بولے معذور رکھیے وقت فرصت نہیں ہے کوئی ہم کیا کہیں کسی سے کیا ہے طریق اپنا مذہب نہیں ہے کوئی ملت نہیں ہے کوئی دل لے کے جان کے بھی سائل جو ہو تو حاضر حاضر جو کچھ ہے اس میں حجت نہیں ہے کوئی ہم شاعروں کا حلقہ حلقہ ہے عارفوں کا نا آشنائے معنی صورت نہیں ہے کوئی دیوانوں سے ہے اپنے یہ قول اس پری کا خاکی و آتشی سے نسبت نہیں ہے کوئی ہژدہ ہزار عالم دم بھر رہا ہے تیرا تجھ کو نہ چاہے ایسی خلقت نہیں ہے کوئی نازاں نہ حسن پر ہو مہماں ہے چار دن کا بے اعتبار ایسی دولت نہیں ہے کوئی جاں سے عزیز دل کو رکھتا ہوں آدمی ہوں کیوں کر کہوں میں مجھ کو حسرت نہیں ہے کوئی یوں بد کہا کرو تم یوں مال کچھ نہ سمجھو ہم سا بھی خیر خواہ دولت نہیں ہے کوئی میں پانچ وقت سجدہ کرتا ہوں اس صنم کو مجھ کو بھی ایسی ویسی خدمت نہیں ہے کوئی ما و شما کہہ و مہ کرتا ہے ذکر تیرا اس داستاں سے خالی صحبت نہیں ہے کوئی شہر بتاں ہے آتشؔ اللہ کو کرو یاد کس کو پکارتے ہو حضرت نہیں ہے کوئی

— حیدر علی آتش

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا خاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یار کب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا خار صحرا پر کسی نے تہمت دزدی نہ کی پاؤں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا جب اٹھایا پاؤں آتشؔ مثل آواز جرس کوسوں پیچھے چھوڑ کر میں قافلہ جاتا رہا

— حیدر علی آتش