حیدر علی آتش

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش

22 January 2026

20سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا کبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعر کمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا ہوا کون سا روز روشن نہ کالا کب افسانۂ زلف شبگوں نہ نکلا پہونچتا اسے مصرع تازہ و تر قد یار سا سرو موزوں نہ نکلا رہا سال ہا سال جنگل میں آتشؔ مرے سامنے بید مجنوں نہ نکلا

— حیدر علی آتش

رخ و زلف پر جان کھویا کیا

رخ و زلف پر جان کھویا کیا اندھیرے اجالے میں رویا کیا ہمیشہ لکھے وصف دندان یار قلم اپنا موتی پرویا کیا کہوں کیا ہوئی عمر کیوں کر بسر میں جاگا کیا بخت سویا کیا رہی سبز بے فکر کشت سخن نہ جوتا کیا میں نہ بویا کیا برہمن کو باتوں کی حسرت رہی خدا نے بتوں کو نہ گویا کیا مزا غم کے کھانے کا جس کو پڑا وہ اشکوں سے ہاتھ اپنے دھویا کیا زنخداں سے آتشؔ محبت رہی کنویں میں مجھے دل ڈبویا کیا

— حیدر علی آتش