سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا
کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا کبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعر کمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا ہوا کون سا روز روشن نہ کالا کب افسانۂ زلف شبگوں نہ نکلا پہونچتا اسے مصرع تازہ و تر قد یار سا سرو موزوں نہ نکلا رہا سال ہا سال جنگل میں آتشؔ مرے سامنے بید مجنوں نہ نکلا
رخ و زلف پر جان کھویا کیا
رخ و زلف پر جان کھویا کیا اندھیرے اجالے میں رویا کیا ہمیشہ لکھے وصف دندان یار قلم اپنا موتی پرویا کیا کہوں کیا ہوئی عمر کیوں کر بسر میں جاگا کیا بخت سویا کیا رہی سبز بے فکر کشت سخن نہ جوتا کیا میں نہ بویا کیا برہمن کو باتوں کی حسرت رہی خدا نے بتوں کو نہ گویا کیا مزا غم کے کھانے کا جس کو پڑا وہ اشکوں سے ہاتھ اپنے دھویا کیا زنخداں سے آتشؔ محبت رہی کنویں میں مجھے دل ڈبویا کیا