حیدر علی آتش

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش

22 January 2026

20سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

حمایت اللہ کا پیش کردہ کلام

خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیری

خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیری خوشا دماغ جسے تازہ رکھّے بُو تیری پھرے ہیں مشرق و مغرب سے تا جنوب و شمال تلاش کی ہے صنم ہم نے چار سُو تیری شبِ فراق میں اک دم نہیں قرار آیا خدا گواہ ہے، شاہد ہے آرزو تیری دماغ اپنا بھی اے گُلبدن معطّر ہے صبا ہی کے نہیں حصّے میں آئی بُو تیری مری طرف سے صبا کہیو میرے یوسف سے نکل چلی ہے بہت پیرہن سے بو تیری شبِ فراق میں، اے روزِ وصل، تا دمِ صبح چراغ ہاتھ میں ہے اور جستجو تیری جو ابر گریہ کناں ہے تو برق خندہ زناں کسی میں خُو ہے ہماری، کسی میں خُو تیری کسی طرف سے تو نکلے گا آخر اے شہِ حُسن فقیر دیکھتے ہیں راہ کو بہ کو تیری زمانے میں کوئی تجھ سا نہیں ہے سیف زباں رہے گی معرکے میں آتش آبرو تیری

— حیدر علی آتش