حیدر علی آتش

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش

22 January 2026

20سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے لٹاتے دولت دنیا کو میکدے میں ہم طلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا تمام عمر رفوگر رہے رفو کرتے جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم ستارۂ سحری تکمۂ گلو کرتے یہ کعبے سے نہیں بے وجہ نسبت رخ یار یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رو کرتے سکھاتے نالۂ شبگیر کو در اندازی غم فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے وہ جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتشؔ برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

— حیدر علی آتش

حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے

حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے اس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصل جان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے دیکھنے دیتی نہیں اس کو مجھے بے ہوشی ساتھ کیا اپنے یہ دیوار لیے پھرتی ہے کسی فاسق کے تو منہ کو نہ کرے گی کالا کیوں سیاہی یہ شب تار لیے پھرتی ہے تو نکلتا نہیں شمشیر بکف اے قاتل موت میرے لیے تلوار لیے پھرتی ہے مال مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید وحشت دل سر بازار لیے پھرتی ہے کعبہ و دیر میں وہ خانہ برانداز کہاں گردش کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے رنج لکھا ہے نصیبوں میں مرے راحت سے خواب میں بھی ہوس یار لیے پھرتی ہے چال میں اس کی سراپا ہے کسی کی تقلید کبک کو یار کی رفتار لیے پھرتی ہے در یار آئے ٹھکانے لگے مٹی میری دوش پر اپنے صبا بار لیے پھرتی ہے ہنستے ہیں دیکھ کے مجنوں کو گل صحرائی پا برہنہ طلب خار لیے پھرتی ہے سایہ سا حسن کے ہمراہ ہے عشق بے باک ساتھ یہ جنس خریدار لیے پھرتی ہے کسی صورت سے نہیں جاں کو فرار اے آتشؔ تپش دل مجھے لاچار لیے پھرتی ہے

— حیدر علی آتش