سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں رہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوں رہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں برابر جان کے رکھا ہے اس کو مرتے مرتے تک ہماری قبر پر رویا کرے گی آرزو برسوں چمن میں جا کے بھولے سے میں خستہ دل کراہا تھا کیا کی گل سے بلبل شکوۂ درد گلو برسوں اگر میں خاک بھی ہوں گا تو آتشؔ گرد باد آسا رکھے گی مجھ کو سرگشتہ کسی کی جستجو برسوں
حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا نہایت غم ہے اس قطرے کو دریا کی جدائی کا اسیر اے دوست تیرے عاشق و معشوق دونوں ہیں گرفتار آہنی زنجیر کا یہ وہ طلائی کا تعلق روح سے مجھ کو جسد کا نا گوارا ہے زمانے میں چلن ہے چار دن کی آشنائی کا فراق یار میں مر مر کے آخر زندگانی کے رہا صدمہ ہمیشہ روح و قالب کی جدائی کا ہوئی منظور محتاجی نہ تجھ کو اپنی سائل کی بنایا کاسۂ سر واژگوں کاسہ گدائی کا نظر آتی ہیں ہر سو صورتیں ہی صورتیں مجھ کو کوئی آئینہ خانہ کارخانہ ہے جدائی کا وصال یار کا وعدہ ہے فردائے قیامت پر یقیں مجھ کو نہیں ہے گور تک اپنی رسائی کا بھروسہ آہ پر ہرگز نہیں اے یار عاشق کو شکار اب تک کہیں دیکھا نہیں تیر ہوائی کا دکھایا حسن سے اعجاز موسی کلک قدرت نے ید بیضا بنایا چور انگشت حنائی کا نہیں مٹتی ہے پتھر کی لکیر احباب کہتے ہیں رہے گا پائے بت پر نقش اپنی جبہہ سائی کا شکست خاطر احباب ہوتی ہے درست اس سے توجہ میں تری اے یار اثر ہے مومیائی کا دل اپنا آئینہ سا صاف عشق پاک رکھتا ہے تماشا دیکھتا ہے حسن اس میں خود نمائی کا کف افسوس ملواتی ہے تیری پاک دامانی پنہا کر شاہد عصمت کو جامہ پارسائی کا نہیں دیکھا ہے لیکن تجھ کو پہچانا ہے آتشؔ نے بجا ہے اے صنم جو تجھ کو دعویٰ ہے خدائی کا