انجم سلیمی

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی

07 January 2026

12سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے

خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے میں نے اک شخص سے اجرت پہ محبت کی ہے خود کو دھتکار دیا میں نے تو اس دنیا نے میری اوقات سے بڑھ کر مری عزت کی ہے جی میں آتا ہے مری مجھ سے ملاقات نہ ہو بات ملنے کی نہیں بات طبیعت کی ہے اب بھی تھوڑی سی مرے دل میں پڑی ہے شاید زرد سی دھوپ جو دیوار سے رخصت کی ہے آج جی بھر کے تجھے دیکھا تو محسوس ہوا آنکھ نے سورۂ یوسف کی تلاوت کی ہے حال پوچھا ہے مرا پونچھے ہیں آنسو میرے شکریہ تم نے مرے درد میں شرکت کی ہے

— انجم سلیمی

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں مختصر یہ کہ وضاحت نہیں کر سکتا میں دل ترے ہجر میں سرشار ہوا پھرتا ہے اب کسی دشت میں وحشت نہیں کر سکتا میں میرے چہرے پہ ہیں آنکھیں مرے سینے میں ہے دل اس لیے تیری حفاظت نہیں کر سکتا میں ہر طرف تو نظر آتا ہے جدھر جاتا ہوں تیرے امکان سے ہجرت نہیں کر سکتا میں اتنا ترسایا گیا مجھ کو محبت سے کہ اب اک محبت پہ قناعت نہیں کر سکتا میں اپنا ایماں بھی تجھے سونپ دیا ہے انجمؔ اس سے بڑھ کر تو سخاوت نہیں کر سکتا میں

— انجم سلیمی