سپیکرز
فائیٹر کا پیش کردہ کلام
خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے
خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے میں نے اک شخص سے اجرت پہ محبت کی ہے خود کو دھتکار دیا میں نے تو اس دنیا نے میری اوقات سے بڑھ کر مری عزت کی ہے جی میں آتا ہے مری مجھ سے ملاقات نہ ہو بات ملنے کی نہیں بات طبیعت کی ہے اب بھی تھوڑی سی مرے دل میں پڑی ہے شاید زرد سی دھوپ جو دیوار سے رخصت کی ہے آج جی بھر کے تجھے دیکھا تو محسوس ہوا آنکھ نے سورۂ یوسف کی تلاوت کی ہے حال پوچھا ہے مرا پونچھے ہیں آنسو میرے شکریہ تم نے مرے درد میں شرکت کی ہے
صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں
صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں مختصر یہ کہ وضاحت نہیں کر سکتا میں دل ترے ہجر میں سرشار ہوا پھرتا ہے اب کسی دشت میں وحشت نہیں کر سکتا میں میرے چہرے پہ ہیں آنکھیں مرے سینے میں ہے دل اس لیے تیری حفاظت نہیں کر سکتا میں ہر طرف تو نظر آتا ہے جدھر جاتا ہوں تیرے امکان سے ہجرت نہیں کر سکتا میں اتنا ترسایا گیا مجھ کو محبت سے کہ اب اک محبت پہ قناعت نہیں کر سکتا میں اپنا ایماں بھی تجھے سونپ دیا ہے انجمؔ اس سے بڑھ کر تو سخاوت نہیں کر سکتا میں