انجم سلیمی

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی

07 January 2026

12سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں ابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں مجھے یقیں ہی نہیں آ رہا کہ یہ میں ہوں عجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں گزر رہی ہے مجھے روندتی ہوئی دنیا قدیم و کہنہ روایات میں پڑا ہوا ہوں بچاؤ کا کوئی رستہ نہیں بچا مجھ میں میں اپنے خانۂ شہ مات میں پڑا ہوا ہوں میں اپنے دل پہ بہت ظلم کرنے والا تھا سو اب جہان مکافات میں پڑا ہوا ہوں

— انجم سلیمی

میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں

میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں خود اپنے آپ پہ روتے ہوئے گزرتا ہوں اسی لیے تو مجھے تو دکھائی دیتا نہیں میں تیرے خواب سے سوتے ہوئے گزرتا ہوں گلہ گزار دلوں سے مرا گزر ہے میاں میں موتیوں کو پروتے ہوئے گزرتا ہوں وہی زمانہ مری راہ روک لیتا ہے میں جس زمانے سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں تری گلی سے بھی ہو آؤں اور پتہ نہ چلے جبیں کے داغ کو دھوتے ہوئے گزرتا ہوں

— انجم سلیمی