سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سید جینٹلمین
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
یادرفتگان
ملک کا پیش کردہ کلام
ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں
ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں ابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں مجھے یقیں ہی نہیں آ رہا کہ یہ میں ہوں عجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں گزر رہی ہے مجھے روندتی ہوئی دنیا قدیم و کہنہ روایات میں پڑا ہوا ہوں بچاؤ کا کوئی رستہ نہیں بچا مجھ میں میں اپنے خانۂ شہ مات میں پڑا ہوا ہوں میں اپنے دل پہ بہت ظلم کرنے والا تھا سو اب جہان مکافات میں پڑا ہوا ہوں
میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں
میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں خود اپنے آپ پہ روتے ہوئے گزرتا ہوں اسی لیے تو مجھے تو دکھائی دیتا نہیں میں تیرے خواب سے سوتے ہوئے گزرتا ہوں گلہ گزار دلوں سے مرا گزر ہے میاں میں موتیوں کو پروتے ہوئے گزرتا ہوں وہی زمانہ مری راہ روک لیتا ہے میں جس زمانے سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں تری گلی سے بھی ہو آؤں اور پتہ نہ چلے جبیں کے داغ کو دھوتے ہوئے گزرتا ہوں